ابنا: ملزم کے خلاف طلبہ کو حبس بے جا میں رکھنے ، تشدد کرنے اور غیر قانونی اسلحہ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
تفتیشی افسرنے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ مدرسہ میں بچوں کو زنجیروں سے جکڑ کر غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا تھا۔
تفتیشی افسر نے اپنے بیان میں کہا کہ قاری داوٴد ، مولانا عبداللہ ، فخرالدین اور قدرت اللہ مفرور ہیں جن کو گرفتار کرنا ہے جس پرعدالت نے حکم دیا کہ مفرور ملزمان کو گرفتار کرکے جلد تفتیش مکمل کی جائے جبکہ ملزم قاری عثمان نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ دو ماہ پہلے مدرسے میں قاری کی حیثیت سے آیا اور اس کا تہہ خانے میں رکھے گئے بچوں سے کوئی واسطہ نہیں
جبکہ ملزم کے وکیل نے اپنے بیان میں کہا کہ مدرسہ کے کسی طالب علم کو زنجیروں سے نہیں جکڑا گیا نہ ہی تشدد کا نشانہ بنایا گیا
مدرسے کے تہہ خانے میں وہ نوجوان تھے جن کے والدین نے نشہ چھڑانے اور اصلاح کے لئے اپنی مرضی سے رکھا تھا ، ملزم کے وکیل نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی نوجوان کے والدین نے شکایت ہی نہیں کی تو حبس بیجا کا مقدمہ کیسے بن سکتا ہے یہ وہ نوجوان تھے جن کے والدین اور اہل محلہ ان کی جرائم پیشہ سرگرمیوں اور نشے کی عادت سے تنگ تھے ۔ ...........
/169